dadyal, Dadyal Online
Published On: Fri, Oct 7th, 2011

Kashmiri Aur Anna Hazare Ka Andolan [ Wahid Kashhir ]

ہندوستانی ریاست مہاڑاشتر کے ایک چھوٹے سے گاؤں رالیگان سدھی میں چمتکار ہوا تھا،ایک چھوٹے قد کا بہت بڑا لیڈر آج پھر ایک نئی شان کے ساتھ میدان عمل میں ہے،رشوت خوری،کرپشن کے خلاف جدوجہد میں اُس کے ساتھی ہندوستانی نوجوان طالب علم،سول سوسائٹی۔مزدور کسان اور ہندوستان کا سارا کمزور طبقہ اُس کے شانہ بشانہ ہے۔آئیے آج اُس بابو راؤ المعروف انا ہزارے ساتھ آپ کی ملاقات کرواؤں جو ہندوستان کی نئی تاریخ کو ایک مختلف انداز میں لکھنے جارہا ہے۔اناہزارے اور اُس کا گاؤں بھی ہماری طرح پسماندہ تھا وہ بھی ایک معمولی کاشتکار تھا مگر ایک لگن کے باعث اُس نے اپنے گاؤں کو آج ہندوستان کا ماڈل ترین گاؤں بنادیا ہے جس کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔یہ کہانی لگن ۔محنت اور باہمی اتحاد کی کہانی ہے،آج سے برسوں پہلے 1975 میں جب رالیگان گاؤں کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے تھے تو وہ بھی اُن اداس دنوں کا نوحہ لکھنے بیٹھ جایا کرتا تھا مگر اُس کے سوچنے کا انداز کوئی اور تھا،وہ تقدیر کا رونا رونے کے بجائے اُسے بدلنے والوں کی صف میں شامل ہونا چاہتا تھا اُس کی تپسیا کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اُسے ایک ساتھی راؤ سولنکی کی صورت میں مل گیا جنھوں نے مل کر گاؤں میں خشک سالی کا مقابلہ کرنے کے لئے گاؤں کے لوگوں کو تیار کیا،حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری اور رضاکارانہ بنیادوں پر بہت بڑا تالاب) (Percolation tank تیار کیا گیا جہاں پر گاؤں کے لوگوں نے رضاکارانہ بنیادوں پر کام کیا اس طرح گاؤں کا پانی ضائع ہونے کے ذخیرہ ہونے لگا ،اس گاؤں میں اس سے پہلے زراعت یا کھیتی باڑی کا انحصار صرف اور صرف بارش کے پانی پر تھا جس کی وجہ سے صرف تین سو ایکڑ زمین زیر کاشت تھی ، پانی کی کمی کی وجہ سے سال بھر مشکل سے ایک ہی فصل تیار ہوتی تھی،پورا گاؤں صرف تین سو لیٹر دودھ نکال پاتا تھا ،مگر آج انا ہزارے کا گاؤں رالیگان سدھی ڈیڑھ ہزار ایکڑ رقبے سے سال میں دو فصلیں اُٹھاتا ہے،تین سو لیٹر بمشکل دودھ بیچنے والے گاؤں کی آج پیداوار ی حد چار ہزار لیٹر سے اُوپر ہے اور مزے کی بات اس دودھ سے گاؤں کی مشترکہ آمدن ڈیڑھ کروڑ روپے سے اُوپر بتائی جاتی ہے آج اسی پسماندہ ترین گاؤں میں ایک جمنازیم،بڑا سکول،ہاسٹل تعمیر کیا گیا ہے،جس گاؤں کے باسیوں کی سالانہ آمدنی سوا دو سو روپے فی کس تھی آج وہی لوگ ڈھائی ہزار روپے فی کس کمارہے ہیں۔چار سے زائد لوگ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں انا ہزارے کے گاؤں پر ریسرچ کرتے ہوئے پی ایچ ڈی ہولڈر بن چکے ہیں،مہاراشتر میں پچاسی سے زائد گاؤں اس کی خودانحصارانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے خود کفالت کی حدود پر پہنچ چکے ہیں۔انا ہزارے کا فکرو فلسفہ آج ہندوستان بھر کے گلی کوچوں میں پہنچ چکا ہے مگر اب کی بار اس کا ٹارگٹ کرپشن ہے اور وہ اس کرپشن کو عوامی طاقت کے ساتھ ساتھ پارلیمانی قوت کو ملاتے ہوئے دہلی کے جنتر منتر چوک پر نبرد آزما ہے۔مہاڑاشتر میں پیدا ہونے والے بابو راؤ المعروف انا ہزارے کے ساتھ ایک کشمیری کی اور کیا ہمدردی ہوسکتی ہے،انا ہزارے اور اُس کے سات رنگوں والے ہندوستان نے آج تک کشمیریوں کو دیا ہی کیا ہے؟ لاشیں۔کفن۔غلامی اور عصمت دریوں کے سوا؟مگر سوال کی کئی سمتیں اور جہتیں ہیں اور اگر وطنیت کی عینک کو کچھ لمحوں تک ایک طرف رکھ انسانیت کی عینک سے دیکھا جائے تو ہندوستان کا بابو رائے انا ہزارے بھی تو کشمیری ہی لگتا ہے جو کرپشن کے خلاف ہے اور سچی بات تو یہ بھی ہے کہ ہم کشمیری بھی تو اسی افسردگی کے مقابل روز اول سے لڑائی لڑ رہے ہیں،ہماری لڑائی کا سکیل یا کینوس انا ہزارے کی ہندوستانی آئین میں بند شقوں سے ذرا باہر ہے کیونکہ ہم کشمیری اس آئین کو اپنے اُوپر مسلط سمجھتے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں مگر سوال پھر وہی واپس لوٹ آتا ہے کہ آزادی کیسی ہوگی؟ وہ آزادی جو ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے 1947 میں لی تھی؟ جہاں انسانوں کی ہجرت نفرتوں اور دُکھوں کی داستانیں لے کر محو سفر ہوئی تھی؟ اور یہ سفر ہنوز جاری ہے۔یا پھر کسی اور ڈگر سے؟ سوال آپ تک ہے۔جواب بھی آپ ہی دے سکتے ہیں !!

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>