dadyal, Dadyal Online
Published On: Sat, Jan 21st, 2012

Kabar ka Trial: Picture Abhi Baaqi Ha By Wahid Kashir

trial of the grave: picture abhi baqi ha by wahid kashir

قبر کا ٹرائل……پکچر ابھی باقی ہے ۔

“سچی گل دساں تے” یہ الفاظ بڑے عجیب و غریب سے لگتے ہیں،کوئی پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو مشورے دینے والے نالائق مشیروں سے یہ تو پوچھے کہ الفاظ اور ہنر کے جو معجزے آپ زرداری صاحب کوعطا کررہے ہیں وہ ایک عوامی ،جمہوری حکومت کو زیبا نہیں دیتا،بات سیدھی سی ہے اگر آپ اپنے آپ کو حق اور سچ پر تسلیم کرتے ہیں تو سپریم کورٹ کے حکم پر بسم اللہ کریں اور سوئس عدالتوں میں پڑے عوام کی اربوں،کھربوں کی رقوم کی واپسی کا راستہ صاف کردیں،اللہ اللہ خیر صلہ ۔مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا،پاکستانی ریاست میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہاں پر آوے کا آواہ ہی بگڑا ہوا ہے، مسیرز آصف علی زرداری اینڈ سنزکمپنی اتنی بھی سادی نہیں کہ عدالتی حکم پر من و عن سرتسلیم کرلے،کسی نہ کسی کارنر سے کوئی نہ کوئی مشیر مفت کا مسخرانہ مشورہ دیکر بلاؤں کو ٹالنے کا ورد جاری کردے گا، اس وقت رحمان ملک صاحب سر کو کھجلی کررہے ہوں گے۔اپنی ڈرائنگ روم اور ٹی وی کی کیمرہ سکرین کے مشہور اداکار ودانش ور فیصل رضاعابدی جو ایک پروگرام میں تقریر کرتے کرتے زبان کے بے بہا پھسلاؤ کے باعث جناب آصف زرداری کو جنت الفردوس میں جانے کی بھی دعا کرچکے ہیں،یا پھراپنے فرحت اللہ بابر صاحب نسوار ڈال کر” خوچہ اب کیا کرے گا “کا سوچ رہے ہوں گے مگر تیل کی یہ دھار اب کسی اور جانب جارہی ہے،اکیس توپوں کی سلامی والے اپنے صبر کو آزما چکے ہیں۔مجھے حیرانگی ہوتی ہے اُن حضرات پر جو یہ کہتے ہیں کہ اداروں کے ٹکراؤ کا خطرہ ہے ۔” سرکار اں”۔۔اداروں کا ٹکراؤ اب عروج پر ہے یہ ٹکراو تو اُس وقت شروع ہوگیا تھا جب افتخار محمد چوہدری کو سپریم کورٹ کا جج بحال کردیا گیا تھا،آپ کو یاد ہوں گے وہ دن جب رائے ونڈ والے میاں صاحب ہر روز زرداری صاحب کے ساتھ مری کے ٹھنڈے موسم میں روح افزا کے مزے لے لے کر عدلیہ کی بحالی پر مذاکرات کیا کرتے تھے،میاں صاحب ایک دفعہ تو رائے ونڈ سے قرآن پاک بھی لے آئے تھے کہ زرداری صاحب کہیں مُکر نہ جائیں،پھر بھی بات نہیں بن رہی تھی۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے ؟” جی ہاں بادشاہو ۔۔یہ وہی این آر او کا “گر مالا “تھا جو زرداری صاحب کا درد سر بنا ہوا تھا۔۔ہر کسی اپنا نامہ اعمال خوب نظر آرہا تھا۔۔تبھی تو سارے شاہ پرست زرداری صاحب کو بہت بڑا صاحب بصیرت انسان کہتے ہیں اور جناب والا کی مدح سرائی میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔پھر آگے چل کر اسی کے بطن خبیثہ سے قومی مفاہمت کے نام والا زہریلا پودا پھوٹا تھا کہ کسی بھی دوسری سیاسی پارٹی کے ساتھ پنگا پازی نہیں کی جائے گی کہ مبادا ڈھول کا پول کہیں نہ کھل جائے۔میاں صاحب کی مسلم لیگ بھی کچی عمر کی کلی تھی جس کا مالی ابھی مسجدوں میں “بانگیں” دے رہا تھا ۔اوروہ خودبھی داتا دربار کے” چھولے چاول” کھانے میں مشغول رہے اور اب جناب چار سال کے بعد میاں صاحب ایک دم “سائیں بھولو” کی طرح “جلیاں” مارتے بیدار ہوگے ہیں کہ بہت ہوگئی اب برداشت نہیں ہوگا۔”پچھے ہٹ جا ..اوئے مولیا “۔۔آپ کو شاید یاد ہوگا کہ سارے میاں صاحب کو فرینڈلی اپوزیشن کرنے کا طعنہ دے رہے تھے،مگر میرا سیاسی تجزیہ اسے میثاق مری کی کسی شق کا نتیجہ کہتا ہے بہرکیف اس پر پھر کبھی لکھیں گے۔کہانی اب شروع ہوگئی ہے۔وہ جو کہتے ہیں نا ۔” ہم آگئے تو گرمی بازار دیکھنا “۔بالکل اسی طرح سپریم کورٹ بھی میدان میں ہے۔۔مگر زرداری صاحب ہمارے دوست حامد میر کے ساتھ انٹرویو میں ابھی تک نو کمنٹس کا کہہ کر خاموش ہیں۔دیکھتے ہیں ان نوکمنٹس کا ٹرائل کب شروع ہوتا ہے ؟ اک واریں “ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک دفعہ سخت گرمیوں میں جب بلی کو پیروں میں زمین کی گرماہٹ محسوس ہوئی تو اس کے آگے اور کچھ نہیں تھا اس کے اپنے ہی چھوٹے چھوٹے بلُونگڑے (بچے) تھے اُس نے گرمی سے بچاؤ کے لئے انھیں ہی اپنے پاؤں کے نیچے دے دیا ۔یہی صورت حال جناب یوسف رضا گیلانی صاحب، آرمی چیف،آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر اور خود زرداری صاحب کے ساتھ پیدا ہوچکی ہے مگر انھیں کوئی بلی کا بچہ نظر نہیں آرہا جسے وہ پاؤں کے نیچے دیں اور گرم فرش سے بچاؤ کا بندوبست ہو سکے۔ یار لوگوں کے بقول اکیس توپوں کی سلامیوں والے آئے کے آئے۔۔کسی بھی گھڑی 333 بریگیڈ والے ایوان صدر کی دیواریں پھلانگ رہے ہوں گے ۔۔مگر اب تک ایسا نہیں لگ رہا ۔۔فوج بھی اتنی “جھلی” نہیں اور نہ ہی اس کی کمر میں وہ دم خم باقی رہ گیاہے۔افغانستان کے ساتھ لگنے والی ڈیونڈر لائن (سرحد) نے ان کا بھڑکس نکال کر رکھ دیا ہوا ہے،اور رہی سہی کسر بلوچستان کے سرمچاروں (آزادی پسندوں)نے پوری کرکے رکھ دی ۔۔میرے” ڈھول سپاہی” اب بلوچوں کے ساتھ” چھپن چھوت” کھیل کھیل کر ادھ موا ہوچکے ہیں،پھر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا آپریشن کیا کم تھا کہ منصور اعجاز سے لندن میں آئی ایس آئی کے چیف کی خفیہ ملاقات نے ستار کے سات سروں میں ایک نیا آٹھواں سُر بھی گھول کر رکھ دیا ہے اور سچ پوچھیں تو فوج بھی حکومت ،عوام ،اور امریکہ کے درمیان سینڈوچ نہیں بلکہ ” مُسی “(باسی) ڈبل روٹی بن کر رہ گئی ہے،پھر امریکن سرکار نے راشن میں بھی کٹوتی کردی ہوئی ہے بلکہ نیٹو کی سپلائی کی بندش کے اعلان کے بعد سارے کا سارا راشن پانی ہی بند کررکھا ہے سومیری ذاتی رائے میں فوج ابھی گھر کے اندر ہی جہاد کرے گی۔دوسری طرف زرداری صاحب کے سوئس اکاؤنٹس کا “رولا” ہی کیا کم تھا کہ اوپر سے میمو گیٹ کا “میمنا “بھی بول پڑا،الطاف بھائی تو لندن میں” ڈمی” ڈالے روتے تھے اب ایوان صدر کے چبوترے مولانا فضل الرحمان۔اسفند یار ولی کی فرمائیشوں سے پھٹ رہے ہیں،سپریم کورٹ کا “ڈھندورچی” ہر روز سمن نکال کر تعمیل کروانے آجاتا ہے۔کہ فلاں ولد فلاں کو حاضر عدالت کیا جائے،فلانے کا لائسنس کینسل کیا جاسکتا ہے،فلاں نے عدالت کی توہین کیوں کی؟ یوسف رضا گیلانی کا درد سر یہ نہیں کہ وہ بااختیار وزیر اعظم ہیں بلکہ انکے کے بیانات سے لگتا ہے کہ اُن کو” اتھرو” ہوگیا ہے انھیں سونف اور اجوائن کی کڑی کی شدید ضرورت ہے کیونکہ ایک لمحے کو وہ اکڑ کر” سائیں دولے” کا چوہا بن جاتے ہیں مگر دوسرے ہی لمحے عاجزی اور انکساری کی تصویر بنے نذر نیاز تقسیم کرتے دکھلائی دیتے ہیں ۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ سارے بیلوں کے گلے میں “ٹلے “(گھنٹے) پھنس گئے ہیں اور وہ جھاڑیوں میں سُونڈ ماررہے ہیں ۔سیاسی سائنس کے نزدیک یہ ایک ریاست کے اندر انارکی اور دیوالیہ پن کا عکاس ہوتا ہے،جس کا منطقی نتیجہ بالاخر ایک ہولناک دھماکے کی صورت میں جلد یا بدیر ظاہر ہوکرہی رہتا ہے،پاکستان کی فلم کے ٹرائل پر ابھی تو وقفے ہی چل رہے ہیں اور بعض ہاضمے کی بیماری کا شکار اینکر پرسن ہر وقت ٹی وی پر پروگراموں میں “بو کاٹا” کے نعرے مار مار کر عوام کا” چپہ چپہ چرخہ” چلا رہے ہیں ۔غریب ریڑھی والا جو جئے بھٹو کے نعرے مارا کرتا تھا اب ایک زرداری سو بیماری کا ترانہ آلاپ رہا ہے،لاہور کی کسی فیکٹری کا مزدور جو کبھی “میاں دے نعرے وجن گے”۔لگا کر جیتا تھا اب جاتی عمرہ کے محلات کو دیکھ کر دل جلا بیٹھا ہے۔
سیاسی اتھل پتھل نے” مرادن کی ایف سولہ نسوار” کی طرح ” تُوڑاں” (دُھمیں) مچا رکھی ہیں،اپنے خان اسفند یار ولی نے نسوار کی ڈبی کھول کررکھ دی ہے اور الطاف بھائی لندن سے بریانی کا دیگچااُٹھائے ہوئے ہیں۔مگر اس ساری واردات کے درمیان قومی اسمبلی میں وزیر اعظم گیلانی صاحب کی تقریر بڑی قابل غور ہے اور میں اسے سیاسی یتیم خانے میں آفت کا پر کالا ہونے کے مترادف ہی قرار دوں گا،یقین کریں وزیر اعظم صاحب نے جس انداز سے فرمایا کہ ہم بھیک نہیں مانگیں گے عوام کے پاس جائیں گے اُسی دم مجھے یقین ہوگیا تھا سیاسی یتیم بن کر عوام کے پاس جانے کا وقت “آلے” (صدائیں) مار رہا ہے،مسئلہ یہ ہے کہ موجود پاکستانی حکومت نے سیاسی طور پر کچھ بیوقوفانہ درجے کی ایسی غلطیاں کر لی ہیں جو بذات خود ان کا” پشاولا “( سایہ) بن کر غوری میزائل کی طرح پیچھا کررہی ہیں۔ان کی تفصیلات آنے والی اقساط میں داخل دفتر کردی جائیں گی،سردست موضوع سخن کو فوج کے ماضی کے کردار کے تجزئیے کی طرف لے کرجاتے ہیں ۔” تکو جی” (دیکھیں جی) میں سیاسی طور پر اس بات کا شروع دن سے قائل ہوں کہ آپ اگر کسی ادارے ۔ انسٹی ٹیوشن کے کردار کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو اس بات کا تعین کرنا آپ کے ذمہ ہے کہ آپ اس کے لئے” ترھکڑی”( میزان) کون سی مقرر کرتے ہیں ؟ آپ کا معیار کیا ہے؟میں ایک کشمیری ہوں اس لئے کسی بھی ادارے کو پرکھنے کے لئے میرا معیار میری قوم کے سوال سے جڑا ہوا ہے،انتہائی مختصر الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ ہم کشمیریوں کا قومی سوال ہے کیا چیز؟ تو اس کا جواب چاہے آپ خودمختار کشمیر کے حامی ہوں یا الحاق پاکستان کے ساتھ بڑا سیدھا سادہ یہ بنے گا کہ بھارت اور پاکستان نے کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا اور باوجود سلامتی کونسل میں وعدے کہ ابھی تک مختلف حیلے بہانوں سے ٹال مٹول کر کے” ڈنگ ٹپائی” کررہے ہیں۔اس “ڈنگ ٹپائی “کی قیمت ہم کشمیری بحثیت قوم سود سمیت ادا کررہے ہیں۔اس نکتے پر ہم کشمیریوں کا کوئی اختلاف نہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے۔بھارت کو میں غاصب۔جارح۔قتل و غارت گری۔انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب سمجھتا ہوں اور شروع دن سے ہی اس کے جبری قبضے کے خلاف اپنی بساط کے مطابق محو ہوں مگر ایک لمحے کے لئے “بریک” ماریں اور دیکھیں کہ اصل میں میرے میرپور۔کوٹلی۔سدھنوتی۔پونچھ۔باغ۔مظفرآباد کی سڑکوں پرمہاڑاشتر۔اترپردیش۔آسام رائفلز کا کوئی اہلکار نظر نہیں آرہا۔مجھ سمیت میرے ہزاروں ہم وطنوں کے پیچھے کوئی بازاروں اور گلیوں میں کتوں کی طرح را ۔سی بی آئی کا” ماواں” (ماموں) نہیں لگا ہوا ۔۔میری گلیوں اور بازاروں میں پنجاب انفنٹری۔چترال سکاؤٹس سمیت آپکی پاک فوج کی” ڈھول سپاہی” ہی تو قابض ہیں لالہ جی؟ ہماری گلیوں اور بازاروں میں کتوں کی طرح ہمارا پیچھا کرنے والے سرگودھے۔ملتان اور نہ جانے کہاں کہاں کے مکین ہی آئی ایس آئی والے ہی تو ہیں۔اگرآپ اس بات پر بحث کریں گے کہ یہ” ڈھول سپاہی” ہماری حفاظت اور سلامتی کے لئے پہرہ دے رہے ہیں تو بھارتی بھی تو یہی بات کہتے ہیں سرکار۔۔ یہ بات باوے گُل محمد کو شائد نہ سمجھ آسکے جو اخبار کو الٹا کر کے پڑھتے ہوں گے۔”مائی باپ” آج کی نئی دھائی میں یہ” گلیں “(باتیں) پرانی ہو چکی ہیں۔میں نے صرف اپنے مقرر کردہ معیار کی بابت بات کرنی تھی سو کردی ۔اب میں اس معیار پر ہی” ڈھول سپاہیوں” کو تولنا پسند کرتا ہوں۔ یہ معیار مجھے بلوچستان کے پہاڑوں سے لیکر اسلام آباد کے ایوانوں تک سیاسی امکانیت کا درست تجزیہ کرنے میں کام دیتا ہے۔میرا تجزیہ درشت ہے۔لہجہ ناقابل برداشت بھی ہوسکتا ہے ،مگر کیا کروں پچپن میں جب بیمار ہوتا تھا تو ڈاکٹر کی تجویز کردہ گولی (کیپسول) دیکھ کر مجھے بھی بڑا وختہ پڑتا تھا اتنے میں اجی جی (دادا جان) کی گرج دار آواز آتی تھی ۔گولی کھا سیں یا نے کھانا ؟ نی تے ٹیکہ لاسی اے ڈاکٹر ۔۔(دوائی لو گے یا نہیںَ ؟ ورنہ ڈاکٹر کو انجیکشن لگانا پڑے گا۔ تو بیلیو اینڈ مترو ۔ چوائس نہیں رہتی تھی
حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی شریف بھی ہیں اور رومی کشمیر بھی ،ان کے پیرومرشد حضرت پیر شاہ غازی علیہ رحمتہ کے متعلق ہمارے پہاڑی کلچر میں ایک بات مشہور ہے کہ جب تک ان کے مرید سوالاکھ دمڑی (پیسہ) نظر و نیاز نہ کردیں سورج طلوع نہیں ہوتا،اس بات کی صحت و تصدیق میرا موضوع نہیں،اصل میں پاکستان ریاست کی موجود حکومت کی مقبولیت کا جائزہ لیا جائے تو اس حوالے سے میرے خیال جب تک سوا لاکھ گالیاں یابدعائیں ن لوگوں کے منہ نہ نکلیں دن کا آغاز ہونا ایک مشکل امر لگتا ہے،آرمی چیف اور صدر پاکستان کی ملاقات کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں اور میرا نہیں خیال کہ اسے سامنے لایا جائے گا ،مگر” کندوں “(دیواروں) کے بھی کان ہوتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان کی لمبائی کافی زیادہ ہوجاتی ہے اسی لئے واقفان حال و قال کا قول ہے کہ ٓآرمی چیف نے زرداری صاحب کے” کن”(کان) میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وزیر اعظم صاحب کا بیان ناقابل معافی ہے جو انھوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے متعلق دیا ہے،اب انھیں یہ بیان واپس لینا ہوگا۔اصل میں مدعا یہ ہے کہ یہ دو اداروں کی ہی جنگ نہیں بلکہ دو ریاستوں کی بھی جنگ ہے اس کی تاریخ بڑی لمبی ہے، ایک آسان مثال کے ذریعے آپ کو سمجھاتے ہیں مجھے ایک دفعہ کام پر پروڈکشن مینجر کے عہدے پروموشن(ترقی) ملی تو میرے ساتھ کام کرنے والا ایک دوسرا ساتھی جو کسی دور میں میرا انچارج ہوا کرتا تھا اسے بھی میرے ماتحت کام کرنا پڑگیا،شروع کے دنوں میں کچھ یوں ہوتا تھا کہ میں شفٹ ختم کرکے گھر جاتا تو پیچھے سے فون کالز کا سلسہ شروع ہوجاتا کہ فلاں مشین خراب ہوگئی ہے،فلاں پلانٹ میں خرابی ہوگئی ہے میں حیراں ہوتا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ وہی مشین جسے ہم دن بھر بغیر کسی خرابی کے چلاتے رہے،اس کی مرمت و سروس بھی ہوچکی ہے میرے گھر میں جانے کے آدھے گھنٹے بعد اللہ کو پیاری ہوجاتی ہے یہ سلسہ کچھ عرصے چلتا رہا تو میں نے کشمیری تحقیقاتی انداز میں اس کے حل کی طرف توجہ دی مجھے موصوف پر کچھ شبہ ضرور تھا مگر عدم ثبوت آڑے آرہے تھے ایک دن میں چھاپہ مارنے کو منصوبہ تشکیل دیا،چھاپہ مار پارٹی اپنی سربراہی میں تشکیل دی اور بغیر کسی کو اطلاع دئیے شام کے آٹھ بجے کام پر پہنچ گیا دوسری شفٹ شروع ہوئی اور وہ صاحب ایک پلاس لے کر ورکشاپ سے نکلے انھیں میرا کوئی علم نہ تھا میرا ایک انگریز ساتھی ممکنہ واردات کے مقام پر پہلے ہی چھپا ہوا تھا ان صاحب نے پلاس لے کر مقررہ جگہ پر جاکر جیسے ائیر (ہوا) کا پریشر مہیا کرنے پائپ کو کاٹا میں اور دوسرا ساتھی ایک دم نمودار ہوگئے میں نے استفسار کیا تو آلو کاجواب گندم تھا۔اگلی کاروائی کے بعد رخصتی ان کا مقدر ہوگی۔اس مثال کا واحد مقصد اس بات کو بڑے سادہ اندازہ میں سمجھانا تھا کہ پاکستان فوج کو سول اداروں کے ساتھ کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی موجودہ سسٹم کے تحت ایسا ممکن ہے کیونکہ آرمی کے بقول وہ ایک انتہائی ڈسپلنڈ (منظم) ادارہ ہے جہاں پر ہر کام ایک طریقہ کار کے اندر ہی ہوپاتا ہے۔کوئی رشوت نہیں چلتی اور اس طرح کے محاورے زبان زد عام ہیں ایسا ہر گز نہیں اگر آپ محترمہ عائشہ صدیقہ جو کہ پاکستان فوج میں آڈیٹر جنرل کے عہدے پر کام کرچکی ہیں کی کتاب ملٹری ان کارپوریٹ پر ایک نظر ماریں تو “اکھیاں “کھل جائیں،تاروں کی باراتیں نکلتی محسوس ہوں اور ایک ہی دعا نکلے۔”میریاڈھول سپاہیا ۔۔تینوں کتھے رکھاں ؟ “اصل میں المیہ یہ ہے کہ عام معمولی فوجی پٹھو اُٹھا اُٹھا کر مرجاتا ہے اور افسروں کی بیگمات عیاشیاں کررہی ہوتی ہیں۔اس موضوع کی طوالت کا تقاضا مجھ سے اس مسئلے پر ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے جس پر پھر کبھی لکھا جائے گا،صدر اورآرمی چیف کی ملاقات بڑے تناؤ والے ماحول میں ہوئی ہے،اس ملاقات سے بڑا کچھ وابستہ ہے آئیندہ کے چوبیس گھنٹے اس ملاقات کی کامیابی یا ناکامی کا پنڈوراہ بکس کھول دیں گے ۔مگر جب میں سوالاکھ دمڑی کا نام لیتا ہوں تو میرا دھیان نہ جانے کیوں آزادکشمیر کے “مجاوارن ملت” کی طرف چلاجاتا ہے ؟ یقین کریں آج کل آزادکشمیر کی لُولی لنگڑی اسمبلی کے اکثر حکومتی ممبران” ہاج مُولہ” کی ہاضمہ درست رکھنے والی” پھکی” کھارہے ہیں کیونکہ یہاں پر بھی دمڑیوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے،کچھ کھچڑی پک رہی ہے کچھ پک چکی ہے اور کچھ پکنے والی ہے ۔

Displaying 2 Comments
Have Your Say
  1. Tum sai pahly jo ik shahks yahan takhat nasheen tha, Us ko b apny khuda hony pai itna he yaqeen tha

  2. What is the article about? I can’t read Urdu that well..

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>