dadyal, Dadyal Online
Published On: Tue, Nov 29th, 2011

Interview with former prime minister Sardar Ateeq Ahmed Khan, by Zulfiqar Dogra

انٹرویو سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان

ڈوگرہ ذوالفقار ملک سے

سابق حکمران اور ریاستی تشخص اور وقار کی بحالی کی دعویدار جماعت مسلم کانفرنس کے صدا بہار صدر اور سابق وزیر اعظم سردار محمد عتیق خان سے ایک

خصوصی اور طویل نشست جس میں چونکا دینے والے سوالات کیے گئے مگر سیاسی لفاظی کے غلافوں میں لپٹے جوابات قارین کی نظر۔سردار عتیق خان جو اندرون جماعت اور اندرون سیاست ہمیشہ شدید تنقید اور اعتراضات کا شکا رہے اور ان کی شخصیت متنازعہ اور موضع بحث بھی رہتی رہی ہے،مسلم کانفرنسی کارکنوں میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں اور آزاد کشمیر کی سیاست کے ایک متحرک ترین کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ ان کی یہی برق رفتاری بھی ہے جو پیچھے رہ جانے والوں کو سیخ پاء کر دیتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اخباری بیانوں اور سیاسی تند و تیز حملوں کی زد میں آجاتے ہیں،سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی پزیرائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ان کی مخالفت بھی ہے جو ان کو ڈبیٹ بنائے رکھتی ہے۔سردار عتیق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اس بات کا اندازہ ہمیں بھی ان سے لیے گئے انٹرویو کے دوران بخوبی ہو گیا جب انہوں نے تمام سوالات کے جوابات کو گول مول کر دیا اور اکثر سوالوں کے رخ ہی کو انہوں نے موڑ کر رکھ دیا،پیپلز پارٹی کی چیرہ دستیاں ہوں یا وزارت امور کشمیر کی قہر ناکیاں،عمر عبدللہ کی اس پار عوامی پزیرائی ہو یا رضوان قریشی کی ریاستی سیاست میں بے جا مداخلت کا سوال سردار عتیق خان نے ٹکراؤپیدا کرنے والا کوئی جواب نہ دیا اور پیپلز پارٹی کے خلاف ان کے اندر نفرت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اندر ہی اندر سلگتا اور مچلتا رہا مگر اس کی کوئی لہر ان کے ہونٹوں تک نہ آسکی ہے۔ چنڈ گھنٹوں کی صبر آزماء کوششوں کے بعد جناب والا نے الفاظ کی مٹھاس میں ڈوبے ہوئے مخالفین کے خلاف زہر کو دھیرے دھیرے اگلتے ہوئے آخر کار کہہ ہی ڈالا کہ پاکستانی زعماء کی موجودگی میں دوران تقریر کہہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو بھی اصلاحات عوامی مفاد میں نافظ کریں قابل تعریف ہیں مگر کشمیر کے ایک اینچ ٹکڑا سے بھی دستبردار نہیں ہوں گئے۔ملٹری ڈیموکریسی کے حمائتی سابق وزیر اعظم نے یہاں بھی فوجی جرنیل ہی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا کہ زرداری دور کے برعکس مشرف دور میں تحریک کشمیر کو غیر معمولی مفاد پہنچا، ستر کی دہائی میں پہلی بار آزاد کشمیر کے لوگوں کو سیاسی حقوق مارشل لا ایڈمنسٹٹر نے دئے تھے۔رازوں سے پردہ نہ اٹھانے کی ٹھانے ہوئے سردار عتیق نے اس راز سے پردہ ضرور اٹھا دیا جو اس وقت کے صدر ریاست نے ان کے کان میں راز داری سے کہا تھا جناب نے فرمایا کہ صدر یعقوب نے حلف کی تقریب میں مجھ سے گلے لگ کر ملتے وقت کان میں کہا تھا کہ قائد محترم پیپلز پارٹی والے بدمعاشوں سے انہیں بچانا ۔سابق وزیر اعظم نے کمال تدبر سے نون لیگ کے خلاف ہونٹوں پر آنے والے الفاظ کا رخ موڑتے ہوئے کہہ دیا کہ فاروق حیدر کو وزیراعظم بنانا اور ہٹانا دونوں فیصلے وقت اور حالات کے مطابق درست تھے اور ساتھ ہی ضمنی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مظفرباد میں پی پی سے اتحاد نہ کرتے تو نون لیگ کو کھلا میدان مل جاتا۔اس الیکشن میں ہمارے امیدوار نے جنرل الیکشن سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔ضمنی الیکشن میں جیتنا نون لیگ کا کمال نہیں بلکہ گیلانی خاندان کا اثر و رسوخ تھا،جناب نے نون لیگ سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں نون لیگ کو جیسے کسی کھاتے میں ہی نہ رکھتے ہوئے کہا کہ نو ن لیگ سیاسی قوت کے طور پر ابھی تک زیر بحث ہی نہیں ہے۔ دوران نشست سردار عتیق کا ایک منفرد انداز یہ بھی مشاہدہ میں آیا کہ جناب ہر سوال کا جواب حد سے زیادہ تفصیل سے دیتے ہیں اور ہر بار تاریخ کے جھروکوں میں کھو جاتے ہیں اور ماضی کے خاندانی اور زاتی کارنامے بھی خوب بیان کرتے ہیں۔ قوم پرست جماعتوں اور مسلم کانفرنس کا باہمی تال میل اور گٹھ جوڑ وقت کی ضرورت ہے یا نہیں کہ جواب میں سابق وزیر اعظم نے فرمایا کہ خودمختار کشمیر اور الحاق پاکستان کا نعرے ہی پائدار اور دائمی ہیں اور باقی رہیں گئے، دوران انٹریو جناب مہاراجہ کی کئی باتوں سے متاثر نظر آئے مگر روائتی پالیسی کے تحت اس کی تمام خوبیوں کو خوبیاں ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہا کہ مہاراجہ کی چند باتیں قابل تعریف تھی مگر بھارت سے الحاق کر کہ مقام و مرتبہ کھو پیٹھا حالانکہ مسلم کانفرنس اس الحاق کی دستاویز کو ہمیشہ جعلی قرار دیتی رہی اور کہتی رہی کہ مہاراجہ نے الحاق نہیں کیا تھا۔لارڈ نزیر کی منسوخی شہریت پر سردار عتیق نے کہا کہ جس اسمبلی کو شہریت دینے کا اختیار نہیں وہ ختم کیسے کر سکتی ہے انہیں شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کا حق کس نے دیا،لارڈ نذیر کا ایشو قابل مزمت واقع ہے۔ جناب نے پیپلز پارٹی سے کسی بھی طرح کے اتحاد کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ وفاق کی بے جا مداخلت اور آزاد کشمیر کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمتی پالیسی شروع کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی سے کوئی اتحاد نہیں اور نہ ہی شراکت اقتدار کو پسند کرتے ہیں، ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کے دور حکومت میں جے او سی مری اور وزیر امور کشمیر ان کو ہدایات جاری کرتے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو رضوان قریشی ڈکٹیٹ کرتے ہیں کیا یہ حکومت کی تزلیل نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ حکومت کرنے والے کام کرنا جانتے ہوں تو پھر رضوان قریشی کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا اس کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ حکومت اپنے کام اور فرائض سے نا آشنا اور نابلد ہے۔ دبے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وفاق آداد کشمیر حکومت کو اپنی پارٹی کا زیلی ونگ نہ سمجھے بلکہ اسے

آذاد کشمیر کی حکومت کے طور پر ٹریٹ کیا جائے یعنی آذاد کشمیر ھکومت پاکستان کے کسی حصہ کی حکومت نہیں بلکہ ایک دوسری ریاست کی حکومت ہے جس کے مستقبل کافیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، مزیدارشاد فرمایا کہ جب بھی غیر ریاستی جماعت آزاد کشمیر میں قائم ہوں گی اسے غیریوں کی طابع داری کرنا پڑے گی۔ جناب والا نے کہا کہ انہوں نے اپنے ادوار حکومتوں کے دوران اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کیے اور کسی کی ڈکٹیشن کو خاطر میں نہ لایا۔ دانش مندانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ٹوٹنے سے ساوتھ ایشیاء میں تباہی آجائے گی۔ پارلیمانی نظام حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں کہا کہ پارلیمانی نظام حکومت نے ہمیشہ مسائل پیدا کیے،صدارتی نظام کہیں بہتر ہے، ماضی میں آذاد کشمیر کا صدر جھنڈی لگا کر پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا تھا مگر ان کے والد محترم نے اس رواج کو بھی ختم کر دیا تھا۔بنک قائم کرنا ایک بڑا فیصلہ تھا جو ہم نے بغیر ڈکٹیشن کے اپنی مرضی سے کیا،عام انتخابات میں بدترین داندلی ہوئی تھی ہم آج بھی ان اعترضات پر قائم ہیں، ایک طرف جانب سابق وزیر اعظم نے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن ،خوشحالی،ترقی کا راز ہندپاک دوستی میں مضمر قرار دیا مگر اگلے ہی لمحے انہوں نے اپنے سابقہ جواب کے برعکس بھارت سے تجارت کو ایک خطرناک منصوبہ قرار دئے دیا جبکہ بھارت کو موسٹ فیورٹ ملک قرار دینے کو تباہی اور بربادی کا دوسرا نام کہہ دیا، فرمایا کہ یہ ایک سازش ہے،اور بے روزگاری،عدم استحکام،معاشی قتل کے مترادف ہے،اس سے پاکستانی صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جبکہ بھارتی گند یہاں آکر فروخت ہوا کرے گا،اس منصوبہ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہوجائیں گی اور زراعت پر بھی برے آثرات مرتب ہوں گئے،بھارتی مقبوضہ کشمیری کی بڑی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس خطہ کشمیر کی ایک بڑی ریاستی جماعت ہے اور عمر عبدللہ،محبوبہ مفتی،ڈاکٹر کرن سنگھ سمیت اس پار کی کشمیری قیادت سے اتفاق و اتحاد قائم کر کہ منزل آزادی تک پہنچے گئے، مخلتف سوالات کے جوابات میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت تجارت کر سکتے ہیں تو پھر آر پار کے کشمیری آپس میں تجارت کیوں نہ کریں،پیپلز پارٹی سے مفاہمت کا ہاتھ اس لیے بڑھایا تھا کہ پاکستانی مداخلت کو روکا جا سکے ،غیر ریاستی جماعتوں کا قیام ریاست جموں کشمیر کے لیے زہر قاتل کے مترادف ہے اور پاکستان کی بے جا مداخلت بڑھنے کا احتمال ہے، نون لیگ ہو یا حیات لیگ یا سلطان لیگ لیگیں آزاد کشمیر میں نہ ماضی نہ کامیاب ہوئی ہیں اور نہ مستقبل میں کامیاب ہو سکتی ہیں ،مسلم کانفرنس کو قائد اعظم کی دعا ہے جبکہ ہمارے مخالفین کو علامہ اقبال کی بدعا ہے ، اپنا ایک اور کارنامہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بارواپڈا نے نالا باغ میں ڈیم کی تعمیر شروع کی اور ہم نے انہیں روک کر خود کام شروع کیا تھا، اور انہوں نے 301 ڈیموں پر کام شروع کر دیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت ہمیشہ طاقت ور رہے یہ تقدیر کا فیصلہ نہیں کل ہم بھی طاقت ور ہو سکے ہیں،کئی معملات میں قوم پرست جماعتوں سے مشاورت رہی ہے مستقبل میں بھی مل جل کر کام کیا۔ جا سکتا ہے۔یہ نشست رات گئے تک جاری رہی اور مسلم کانفرنس،مسلم یوتھ اور ایم ایس ایف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی

Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. Akram Sattar says:

    Nothing new in this interview he always talks about ghair rayasti parties, but when he see’s threat to his interest he colludes with them lovingly example is peoples party a rayasti party? then he says mufamati policy with peoples party this is not mufahamit this is munafkat he says they started work on 301 dams, can he name any which were completed, he says the assembly which hasnt got power to give nationality, how it can finish somebodys nationality, can atique khan saab let me know what other rights has their assembly got, the truth is wazartay amoor kashmir pulls all the strings, atoque khan saab wake up, you have the ability, put kashmirs interest first then yours, dont leave it too late or you will regret it.

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>