dadyal, Dadyal Online
Published On: Fri, Oct 7th, 2011

Dadyal Ki Pani Kahaani [ Wahid Kashir ]

آئیں آپ کو اپنی سلطنت و جنم بھومی علاقہ اندرہل ڈڈیال کی خلوص بھری مٹی سے ملواتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کی سوندھی سوندھی گلیوں کی سیر کرواؤں،اس کے دُکھوں کو زباں دوں،اس کی آہوں کو بیان کروں،اس کی فریادوں کا نوحہ لکھوں،اس کے درد کو سمجھاؤں۔مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ میرے ڈڈیال کے ماتھے پر ہاتھ رکھیں اور اس کے پسینے کو پونچھیں اور اس کے زخموں کا مرہم بنیں۔
میرا ڈڈیال پانی میں ڈوب کر بھی پانی ہی کی بوند بو ند کو ترستا ہے۔میرے اس خلوص والے علاقے کی دادیوں اور نانیوں کے پاس بیٹھیں تو ایک کہانی کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے آئیے آج وہی کہانی آپ سے سناتا ہوں۔بڑے طویل عرصے کی بات ہے ڈڈیال کا بانی مہاراجہ دادل خان اپنی نو بیاہتا رانی کی بارات لئے ڈڈیال میں پہنچا ابھی رانی کی بگھی کا جلوس سنہری زلفوں والے چوہدری لطیف ثانی صاحب کے پرانے گھر واقع باولی پہنچا ہی تھا کہ مہارانی کو پیاس محسوس ہوئی،آس پاس پانی کی تلاش شروع ہوئی مگر پانی لانے میں تھوڑی دیر لگ گئی کہ مہارانی کے منہ سے نکل گیا ۔بابل میں سو کوہ نہ چلی ۔تے تریائی ۔ (بابل ابھی تو سو کوہ کو سفر بھی نہیں ختم ہوا اور مجھ پیاس لگ پڑی ہے) ڈڈیال کے بابل کو اپنی محبوب مہارانی کے الفاظ بہت گراں گزرے اُس نے اسی مقام پر قافلے کو رُکنے کا حکم دیا اور اپنی مہارانی کے ادا کئے ہوئے لفظوں کی لاج میں ایک شاندار قسم کی باولی بنانے کا حکم جاری کیا۔ہماری نانیوں اور دادیوں کے بقول یہ باولی بڑی شاندار تھی ۔اس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ایک سو زینے بنوائے جو کہ مہارانی کے سو کوہ یا میل کی مسافت کی یاد تازہ کرتے تھے ۔سو زینے نیچے اُتر کر پانی لایا جاسکتا تھا ویسے پانی نکالنے کے رہٹ بھی لگایا گیا تھا،رمضان المبارک کے دنوں میں کڑکتی دوپہروں کو ڈڈیال کے محنتی کسان اور مزدور ان سیڑھیوں یا زینوں پر سو جایا کرتے تھے اور ظہر کے وقت یہیں سے وضو بنا کر دو جہانوں کے پروردگار ک آگے سربسجود ہو لیا کرتے تھے۔ یہ میرا پراناڈڈیال تھا جسکی مٹی سو اُگلتی تھی جس کے کھیتوں میں چاندی پیدا ہوتی تھی جس کی نقد آور فصلیں کسی کو دوسروں کا محتاج نہیں ہونے دیتیں تھیں۔منگلاڈیم کی جبری تعمیر سے پہلے میرے ڈڈیال کا کسان خود کفیل تھا اس کی اجناس بیرونی منڈیوں تک بھی جایا کرتی تھیں ایسا اس کے پُرتاثیر پانی کی وجہ سے تھا اس کے ایک کاندھے پر پونچھ کا دریا لوریاں دیتا تھا تو دوسرے طرف جہلم کا پانی اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے پونچھا کرتا تھا۔آج کا ڈڈیال اپنی خوبصورتی کو منگلاڈیم کی نظر کرنے کے باوجود پانی کی بُوند بُوند کو ترستا ہے،اس کی جبین خشک ہے ۔اس کے گھڑوں میں پانی نہیں رہا۔اس کے بازاروں میں ٹینکر پانی بیچتے پھرتے ہیں ۔کبھی آپ نے سو چا ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اس مدعے پر نظر ڈالیں گے آنے والے دنوں میں۔میں فقط اتنا چاہتا ہوں آپ اپنے ذہن میں اس کی تصویر کشی کرلیں تاکہ منظر تازہ ہو جائیں۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>