dadyal, Dadyal Online
Published On: Sat, Jan 21st, 2012

Azad Kashmir Act 1974: Document of Slavery By Wahid Kashir

Azad-Kashmir-ka-act-1974-the-document-of-slavery by wahid kashir

جسے آپ آزادکشمیر کہتے ہیں اور میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر ،(میں ایسا کیوں لکھتا ،کہتا ہوں اس پر پھر کبھی بات ہوگی) میں حکومتی تبدیلی پاکستان کی حکومتوں کی تبدیلی سے جڑی ہوئی ملتی ہے مگرحالیہ عشرے میں یہ پالیسی اسلام آباد کے بابوؤوں نے تبدیل کردی ہے کیونکہ پالیسی سازوں کو مہرے دوسری مارکیٹوں میں ملنا شروع ہوگئے ہیں،اب جمہوریت کے نام پر ان ہاؤس یااندرون خانہ تبدیلی کا داؤ آزمایا گیا کیونکہ حکمت عملی کے لحاظ سے یہی بہتر تھا ،اس کی بدترین شکل ہم نے سردار عتیق احمد خان کے پچھلے دور میں دیکھی تھی جب ایک سال سے کم عرصے میں شائد چار وزرااعظم تبدیل ہوئے،یہی داؤ راجہ فاروق حیدرخان صاحب کے دور میں آزمایا گیا،اس سوال کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کو دوبارہ مطالعہ(Re Visit the history) کریں۔میرے تجزئیے نے اس کی جدید شاخیں 1974 کے ایکٹ کی طرف جا کر ملائی ہیں،برطانیہ،آزادکشمیر اور دیگر ممالک میں بسنے والے کشمیریوں کی ایک بڑی اکثریت نے آزاد کشمیر کے اس آئین کا نام تو ضرور سُنا ہوگا مگر اس کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا اس لئے میں تجویز کرتا ہوں کہ آپ اس ایکٹ کی دستاویز کو آزاد جموں کشمیر حکومت کی ویب سائٹ
جاکر ضرور پڑھیں تاکہ آپ کو اس ایکٹ کاعلم ہو،آئیندہ اقساط میں اس ایکٹ کی افادیت،نقصانات،عمل پزیری،اور قانونی حثیت سے سنجیدہ بحث کی جائے گی تاکہ ہم ایک سائنسی تجزئیے کی روشنی میں اس بات کی تہہ میں پہنچ سکیں کہ آیا یہ ایکٹ ایک دستاویز غلامی ہے یا پھر بنیادی جمہوریت کی طرف ایک قدمآزادکشمیر کے آئین یا جسے ایکٹ 1974 کہا جاتا ہے پر تبصرہ یا بحث کرنے سے ما قبل ضروری ہے کہ ہم ریاست اورمملکت کے دومیان فرق کو واضع کریں،ریاست اور مملکت دو مختلف چیزیں ہیں اور سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر نام نہاد سیاسی ساہوکار ریاست اور مملکت کے شہریت،قانونی اور عالمی فرق کو سمجھے بغیر دونوں چیزوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے پھرتے ہیں جس کا نتیجہ کسی بھی صورت میں قوم کی بھلائی کی شکل میں نہیں نکل سکتا، تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے جب چند لیڈروں کی ناسمجھی ،سیاسی یا آئینی ناپختگی کی بدولت قوموں کا بڑا نقصان ہوا ہو۔ہمارے نام نہاد آزادکشمیر میں سیاست کاری کرنے والے اس بات سے بالکل نابلد ہیں کہ ریاست اور مملکت میں کیا فرق ہوتا ہے؟ مثال کے طور آپ میرپور ،مظفرآباد ،راولاکوٹ یا کسی بھی ضلع میں انٹر نیشنل ائیررپورٹ مانگتے ہیں ؟ کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے کیونکہ پاکستان کی فضائی کمپنی آپ کے دم قدم سے چل رہی ہے،مگر کیا آپ اس نکتے کو سمجھتے ہیں کہ وہ ائیر رپورٹ جو آپ کا پیدائشی حق بنتا ہے آپ کو موجودہ ریاستی پوزیشن میں کبھی نہیں مل سکے گا؟ اور اگر ملا بھی تو اس کا سٹیٹس کس نوعیت کا ہوگا؟ اور کیااسے پرائیوٹ سیکٹر (بلاواسطہ )کی انوسٹمنٹ سے بنوایا جائے گا،ریاست اس میں اپنا پیسہ نہیں دے سکے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جسے آپ ریاست اور مملکت کے درمیان خط امتیاز کھینچ کر نہیں سمجھیں گے آپ جتنا مرضی اپنے آپ کو دانشور کہہ لیں ،اسے سمجھنا آپ کے لئے مشکل ہوگا۔دوسرا پوائنٹ یہ بھی ذہن میں رکھ لیں منگلاڈیم کی رائیلٹی،مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ کتنی رقم بنتی ہے؟ اور نہ میں اس کے سکہ نانک شاہی کی گنتی کرنا چاہتا ہوں مگر آپ 1966/67 سے منگلا کے پیداواری عمل کے آغاز سے ہی اس کا حساب لگا ئیں تو یہ رقم اربوں میں جاکر بنتی ہے،یہ ریاستی عوام کا پیسہ ہے،اس پر آپ باشندگان ریاست کا پہلاحق ہے مگر کیا آج تک آپ کو ایک پائی بھی وصول ہوئی ہے؟ آگے چلتے ہیں،آپ ریاستی اداروں پر قابض لینٹ آفیسروں کی اصطلاع سے شائد کسی حد تک واقفیت رکھتے ہوں جیسا کہ آپ کے نام نہاد آزاد کشمیر کا پولیس ڈی آئی جی۔چیف سیکرٹری،فنانس سیکرٹری،ہوم سیکرٹری،ہیلتھ سیکرٹری،اکاوٹنٹ جنرل اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دوسرے عہدے لینٹ آفیسران کو دئیے جاتے ہیں اور یہ سبھی کے سبھی پاکستانی باشندے ہوتے ہیں کیا مجال ہے کہ کوئی ریاستی باشندہ اس طرف نظر مار کر دیکھائے؟ ہاں آپ کی ریاست جموں کشمیر کے باشندے بھی اس محکمے کے ساتھ کام کرتے ہوں گے ان میں کوئی ان کا کار ڈرائیور ہوگا،تو کوئی خانساماں،کوئی صفائی کرنے والا ہوگا تو کوئی چائے والا،یہ پوسٹیں آپ کشمیریوں کے لئے مختص ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ آئینی اور قانونی موشگافیوں کا پنڈورا بکس کھولنے سے پہلے ان چند چیزوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواسکوں تاکہ آپ میرے الفاظ کے پس منظر سے آگاہ ہوسکیں اور ریاست اور مملکت کے فرق،اس کی نوعیتوں،اس کے تعلقات کار کے جائزہ لے سکیں،میں کوشش کروں گا کہ اس انتہائی پچیدہ اور خشک موضوع کو خوشگوار بنانے کی بھرپور کوشش کروں۔آئین کسی بھی قوم کی رہنمائی،رہبری کے لئے ترتیب دیا جاتا ہے،ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے بلاشرکت غیرے ہر فرد۔ادارے پر نفاذ کو یقینی بنائے،اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسے اپنے سمیت تمام متعلقین پر نافذ عمل کریں،شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی قانون سازی کے لئے قابل۔دیانت دار افراد کو اس کے قانون ساز اداروں میں منتخب کرکے روانہ کریں،عوام کے ووٹوں کی طاقت سے معرض وجود میں آئی ہوئی قانون ساز اسمبلی،پارلیمنٹ اس کے ڈھانچے میں بدلتے حالات اور صورت حال کے مطابق تبدیلی کرسکتی ہے جس کے لئے دو تہائی سے زائد کی اکثریت کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے،یہ سیدھی سادی تشریع ہے آئین کی۔آزاد کشمیر کے عبوری آئین کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو کئی طرح کے ابہام ملتے ہیں ایکٹ 1974 پر بات کرنا کوئی خلاف قانون بات نہیں،نہ ہی کوئی توہین کا قانون لاگو ہوتا ہے،ہر باشعور سماج میں بسنے والے شہریوں کا یہ بنیادی حق بنتا ہے کہ وہ قانون کے اندر موجود سقم یا خرابیوں کو کُھل کر بیان کریں،اس کے حوالے سے تنقیدی عمل مربوط کریں اور ساتھ ساتھ اس کے متبادل تجاویز بھی دیں،یہ ایک المیہ ہوگا جب ہم سائنسی سوچ کو ایک طرف رکھ کر محض لگی لپٹی باتیں کرتے رہیں،قانون میں تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ ہم قانون کا مطالعہ کرتے ہوئے اس میں شامل ایسی دفعات کو مرکز موضوع بنائیں جنھیں ہم بنیادی شہری حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں،مثال کے طور میں اس نام نہاد ایکٹ کی ایک شق کو بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا موجب سمجھتا ہوں جس کے مطابق اگر آپ ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بعالی اور اس کے عوام کے حق سرداری کی بات کرتے ہوئے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ مجوزہ الحاق کو نہیں مانتے تو آپ انتخابات میں حصہ لینا تو درکنار کاغذات نامزدگی تک نہیں داخل کرواسکتے ،ایسا نہ صرف عالمی سطع پر تسلیم شدہ بنیادی شہری حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ عوام کی بنیادی سیاسی ضرورتوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔انسانی ضمیر،سوچ اور شعور کسی کے باجگزار یا مزراعے نہیں کہ انھیں دبا کر شہری حقوق کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔گزشتہ دنوں ہی ہمارے صحافی دوست جناب ارشاد محمود اور ان کے دوستوں نے سنٹر فا ر پیس ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز کے زیر انتظام ایکٹ 1974 پر اسلام آباد میں ایک سیر حاصل مباحثے کا اہتمام کیا تھا جس کے نتائج کا ابھی تک انتظار ہے مگر اسی سلسے کی ایک کڑی کے طور جون2011 میں شائع ہونے والی ان کی رپورٹ اس حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے میں چاہتا ہوں کہ میرے پڑھنے والے اس رپورٹ کو اس لنک پر جاکر پڑھیں ۔http://cpdr.org.pk/wp-content/uploads/2012/01/2011_CPDR_Kashmir_Report.pdf
گو کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے صاحبان میں سابقہ حکومتوں میں شامل لوگ بھی ہیں مگر پھر بھی اس رپورٹ سے یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ ایکٹ چوہتر میں بے شمار آئینی اور قانونی سقم ایسے ہیں جنھیں ساتھ رکھ ایک وسیع البنیاد،ہمہ جہتی یا قومی نصب العین ترتیب نہیں دیا جاسکتا۔ میں نے ایکٹ 1974 پر اپنے نقطہ نظر،عوام کی آئینی ضروریات،شہری مفادات،بنیادی انسانی حقوق کے تسلیم شدہ چارٹر کے مطابق ڈھالنے کے کشمیر کے قومی و عوامی نقطہ نظر کو ایک علیٰعدہ حوالے سے لکھا ہے جسے میں اپنی آنے والی کتاب میری سوچ کا سورج میں شامل کروں گا ۔بہرکیف اس مختصر قلمی تسلسل کو یہاں پر نہیں رکنا چاہیے،لکھنے اور سوچنے کا عمل لامحدود اور وسیع ہے،میں ہمیشہ نئے امکانات اور زاویوں پر اپنی نظر رکھتا ہوں اور انھیں اپنی نوٹ بک میں محفوظ کرلیتا ہوں۔ہمارے سامنے بے شمار تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں،ہر دم نئے واقعات کا ظہور ہورہا ہے،نئے ہیرو اور ولن پیدا ہورہے ہیں، ہر روز کورو اور پانڈو کا معرکہ ہوتا ہے،مگر مجھے اس امر کا باخوبی علم ہے جیسا کہ ہماری پہاڑی میں کہتے ہیں ۔ دانداں نی لڑائی تے جھنڈاں نی تبائی (دو بھینسوں کی لڑائی میں تبائی ہمیشہ جھاڑیوں کی ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اپنے شہری حقوق کے حوالے سے شعور میں اضافہ کریں۔

Displaying 2 Comments
Have Your Say
  1. hussain ali says:

    i appreciate your post.well said keep it up by writing such informative columns ALLAH bless you

  2. Well written Kashmiri are put behind the wall by act 1964 and 1974 by pakistan in A.K and 1963 in O.P.Kashmir by India Both Govt did only for their intrest and take more control on Kashmiris.

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>